بھائی پہلے تو کبھی آپ نے اتنے خوشگوار انداز میں لڑکیوں سے بات نہیں کی؟۔۔۔
بریرہ نے احمر کو ٹوکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
ہاں بہنا کب تک بھاگتا یار اب سوچ رہا ہوں تمہاری بھابھی لے ہی آوٴں بس۔۔۔۔
احمر نے بریرہ کو کہا جس پر بریرہ نے سر کو ہلکا سا خم دیا جیسے کہنا چاہ رہی ہو اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔۔۔
احمر نے بھی سر کھجاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
عائشہ اور فاریہ دونوں بھائی بہن کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
اب یہ فراک لے لو پھر چلو کچھ کھاتے ہیں پھر بس چلیں گے۔۔۔۔
احمر نے کلائی میں پہنی اپنی رسٹ واچ میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔۔
بریرہ نے کہا اور جو جو پسند آتا گیا لیتی گئی اس دوران عائشہ اور فاریہ جا کر عائشہ کی بھی چیزیں لے آئی اور پھر سب مال میں موجود اس ریسٹرانٹ میں چلے گئے۔۔۔۔
کھانے کے بعد سب باہر آگئے ،احمر پارکنگ سے گاڑی لے نے چلا گیا۔۔۔۔
ویسے عائشہ لیمن والی فراک بہت خوبصورت ہے نا بریرہ نے عائشہ کو آنکھ مارتے ہوئے کہا ان دونوں کو سمجھ آگیا تھا کہ احمر بھائی کس طرف اشارہ کر رہے تھے۔۔۔۔
ہاں یار واقع بھابھی پر کافی سوٹ کرے گا یہ عائشہ بریرہ کی طرف تالی کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔
فاریہ تمہیں کیسا لگا ۔۔۔۔۔
عائشہ نے پوچھا جس پر پہلے تو وہ تھوڑی سرخ ہوگئی ان لوگوں کی باتوں سے کیوں کے ان لوگو کے ایکسپریشن سے اسے معلوم ہو گیا تھا کہ کیا کھچڑی پک رہی ہے۔۔۔۔
ہاں صحیح ہے بھابھی پر اچھی لگے گی۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنا تھا کہ عائشہ نے استغفرللہ نے نارے لگا نا شروع کردیا اور احمر بھی گاڑی لے کر پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔
فاریہ جھینپ کر عائشہ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
آجاو لڑکیوں گاڑی میں۔۔۔۔
احمر نے آواز دی تو تینوں اپنی جگہ سنبھالتے بیٹھ گئی۔۔۔۔
احمر نے بھی گاڑی سڑک پر نکال لی اور آتف کے سونگ پلے کر دیئے جو گاڑی میں کچھ یہ منظر پیش کر رہے تھے۔۔۔۔
عائشہ اپنے موبائیل پر مصروف تھی اور بریرہ بھی شاید دونوں ایک دوسرے سے بات کر رہی تھی پر نا جانے کیا بات۔۔۔۔
دوسری طرف احمر کبھی سامنے دیکھتا تو کبھی مرر سے فاریہ کو اور فاریہ جو ان سب سے بے گانی سونگ کا مزہ لیتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی اوع ساتھ ساتھ گنگنا بھی رہی تھی۔۔۔۔
کبھی سرد سی ۔۔۔۔۔۔
کبھی درد سی ۔۔۔۔۔۔۔
زندگی بے نام تھی۔۔۔
کئی چاہتیں ہوئی مہرباں۔۔۔۔
ہاتھ بڑتے تھامتی۔۔۔۔
ایک وہ نظر ، ایک وہ نگاہ۔۔۔۔۔
روح میں شامل جس طرح۔۔۔
ہو گیا بے گانہ میں حوش سے پہلی دفع۔۔۔
یہ اثر اب جانا کیا رنگ ہے چڑھا۔۔۔۔
سنا ہے سنا ہے۔۔۔۔
یہ رسمِ وفا ہے۔۔۔
جو دل پہ نشہ ہے۔۔۔
وہ پہلی دفع ہے۔۔۔۔
اور اس جملے پر ان دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائی تھی اور پھر دونوں کی کنفیوز ہو کر نظر پھیر گئے۔۔۔۔
عائشہ کا گھر آگیا تھا اسے وہاں ڈراپ کر کے فاریہ کے گھر کی احمر نے گاڑی موڑ لی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ فاریہ کو بھی گھر پہنچا کر بریرہ کی طرف چلے گئے۔۔۔۔
---------♥️----------
حمزہ مراد کو تنگ کر کے کلاس میں چلا گیا کیوں کے اسے معلوم تھا مراد ابھی وہیں آئے گا۔۔۔۔
آگیا میرا جلاد دوست۔۔۔۔۔
مراد کو کلاس میں انٹر ہوتا دیکھ ر حمزہ نے کہا۔۔۔۔
مجھے پتہ تھا تم یہیں ہوگے۔۔۔۔۔
مراد حمزہ کے پڑوس میں بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔
ہائے جلاد تو ہمیشہ رہتا ہے مگر جب کبھی تو ایسے اچھا بن جاتا ہے واقع میرے دل کو سکون ملتا ہے میرے جلاد بابو۔۔۔۔
حمزہ مراد کے گال کھینچ کر کہنے لگا اور مراد جو اس کے اس حرکت سے کافی چڑتا تھا اسے گھور کر دیکھنے لگا ابھی کچھ عم۔کرتا اس سے پہلے کلاس میں لیکچر کا آغاز ہو گیا اور مراد بس دانت پس کر رہ گیا۔۔۔۔
-----------♥️------------
اسد میرے کیبن میں آوٴ مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
شہباز صاحب نے اسد کو کال کر کے کہا جو اپنے کیبن میں کسی فائل کو ریچیک کر رہا تھا۔۔۔
جی بابا آیا۔۔۔
اسد کہہ کر فائل سائڈ پر رکھتا شہباز صاحب کے کیبن میں چلا گیا۔۔۔
بیٹھو بیٹا مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔
شہباز صاحب نے اسد کو بیٹھنے کے لیئے اسد فرمانبرداری سے بیٹھ گیا۔۔۔
جی بابا کہیں۔۔۔۔
اسد نے بات کا آغاز کیا۔۔۔
دیکھو بیٹا میں چاہتا ہوں احمر کی شادی کردی جائے اکیلا رہتا ہے مجھے ہر وقت ایک ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اسے کچھ ہو نا جائے اس لیئے شادی ہو جائے گی تو تھوڑا ٹھیک بھی ہو جائے گا پرانی باتوں کو بھی بھول جائے گا تم کیا کہتے ہو؟
شہباز صاحب نے اسد سے پوچھا۔۔۔۔
جی بابا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر اُن سے پوچھا ہے آپ نے کے وہ شادی کرنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں یا کوئی لڑکی پسند کی ہوئی ہو شاید انہوں نے؟
اسد کو ماجد بتا چکا تھا احمر نے فاریہ کے بارے میں جو انفارمیشن نکلوائے تھے اسد خوش تھا کہ اسکا بھائی اس سوچ سے باہر آرہ ہے اس لیئے ابھی اس نے شہباز صاحب کے سامنے یہ بات رکھ دی۔۔۔
دیکھو بیٹا ابھی میں نے ہوچھا تو نہیں ہے مگر ایک لڑکی ہے میرے نظر میں اور ٹھیک بھی احمر نا نہیں کرے گا میں جانتا ہوں۔۔۔۔
اسد کو حیرت ہوئی کہ کون ہے وہ لڑکی مگر اس نے پوچھا نہیں کیونکہ وہ احمر کے متعلق زیادہ بات نہیں کرتا تھا کسی سے۔۔۔
جی بابا جیسا بہتر لگے آپ کو وہ کہہ کر اُٹھ گیا اور اپنے کیبن میں واپس چلا گیا۔۔۔۔
شہباز صاحب نے اسد کے جاتے ہی فاطمہ بیگم کو کال ملائی۔۔۔۔
ہاں فاطمہ کیسی ہو شہباز صاحب نے کہا۔۔۔
جی بھائی ٹھیک ہوں۔۔۔
اچھا فاطمہ شام کو میں اور شمسہ آئیں گے کسی ضروری کام سے تو احمد بھائی ہوں گے نا گھر پر؟
شہباز صاحب نے پوچھا۔۔۔۔
جی بھائی احمد ہیں گھر پر۔۔۔۔
فاطمہ بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے نا جانے کیا ضروری کام ہے بھائی کو۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے بریرہ بیٹی آگئی ؟ یونیورسٹی سے؟
شہباز صاحب نے ہوچھا۔۔۔
جی ابھی آئی ہے احمر بھی یہیں ہے۔۔۔۔
فاطمہ بیگم نے کہا۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے اسے بھی روک کر رکھو اس سے بھی بات کرنی ہے ٹھیک ہے شام۔کو ملتے ہیں خدا حافظ ۔۔۔۔
شہباز صاحب کہہ کر کال کٹ کر گئے اور فاطمہ بیگم سوچنے لگیں کہ کیا بات ہو سکتی ہے۔۔۔۔
--------♥️---------
فاریہ بیٹے تم کب آئی؟
زرینہ بیگم کچن سے نکلتے ہوئے فاریہ سے پوچھنے لگی جو کمرے میں بیگ رکھ کر اب فریش ہونے کے لیئے باہر آئی تھی۔۔۔
امی بس ۵ منٹ پہلے آئی ہوں۔۔۔
فاریہ کہہ کر منہ ہاتھ دھونے لگی۔۔۔۔
اچھا بیٹا ٹھیک ہے تم ہاتھ منہ دھو کر آوٴ میں کھانا لگاتی ہوں۔۔۔۔
زرینہ بیگم کہہ جانے لگی جب فاریہ نے روکا۔۔۔۔
نہیں امی میں کھانا کھا کر آئی ہوں آپ کھا لیجیئے میں آرام کر لوں تھوڑا کیوں کہ پھر ٹیوشن کے بچے آجائیں گے۔۔۔
فاریہ ، زرینہ بیگم سے کہہ کر کمرے میں چلی گئی۔۔۔
فاریہ ابھی لیٹی ہی تھی کہ احمر کی باتیں اسے یاد آنے لگی ۔۔۔۔۔
"ہاں بہنا کب تک بھاگتا یار اب سوچ رہا ہوں تمہاری بھابھی لے ہی آوٴں بس"۔۔۔۔
یہ جملہ یاد آتے ہی فاریہ بے خُدی میں مسکرانے لگی۔۔۔
پھر اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہے فضول میں۔۔۔۔۔
اور پھر اپنی سوچ کو ایک طرف جھٹک کر فاریہ نے آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔
مگر احمر بار بار اسکے سوچوں میں آنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
میری آنکھوں میں تیرا عکس رہتا ہے
تو میرے روبرو ہو کر میرے بر عکس رہتا ہے
میرے گوشۂ دل میں ایک کسک ہے جاناں
کیوں میرے دل میں تیرا رقص رہتا ہے
episodes
دادی ٹانگوں میں درد ہوتا ہے"؟..…..زمل سمجھ گئی تھی ایک ملازمہ کو اسکے ساتھ اسکی اور دادی کی نگرانی کیلئے بھیجا جاتا ہے اس لئیے وہ ہلکی پھلکی باتیں بنا ڈر کے کرلیا کرتی کہ ملازمہ اگر جاکر بتائی گی بھی تو کیا بتائے گی۔۔ "نہیں پتر جب سے تو مالش کرتی ہے میرے ٹانگوں کو بہت آرام ہے اللّٰہ تجھے ڈھیروں خوشیاں دیں"....وہ محبت سے اسے دیکھتے بولی "آمین".....وہ زیر لب بولی "تو بہت پیاری ہے اور تیری آنکھوں کا رنگ.."،،،،،دادی کا زمل کو دیکھنے کا انداز ہی الگ ہوتا تھا "میں بلکل اپنی امی کی طرح ہوں"......زمل انجانے میں دادی کی بات کاٹتے بولی،،،دادی شاید آگے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زمل ماں کے ذکر کے چکر میں غور نہیں کی وہ دونوں ایسی ہی چھوٹی موٹی باتیں کررہے تھے،،،زمل کے آنے سے دادی بہت خوش تھی،،وہ تو ایک کمرے میں اکیلی پڑی رہتی تھی کھانا دیدیا اور بس اور محتشم صاحب تو انھیں پوچھتے ہی نہیں تھے ایک زہران تھا جب وہ شہر سے آتا تو دادی کے پاس بیٹھتا اب زمل آئی تھی تو انکی بوریت میں خاصی کمی آئی تھی **** زمل زہران خان کے کمرے میں آگئی تھی۔۔دل میں ایک عجیب سا ا...
Comments
Post a Comment