episodes
دادی ٹانگوں میں درد ہوتا ہے"؟..…..زمل سمجھ گئی تھی ایک ملازمہ کو اسکے ساتھ اسکی اور دادی کی نگرانی کیلئے بھیجا جاتا ہے اس لئیے وہ ہلکی پھلکی باتیں بنا ڈر کے کرلیا کرتی کہ ملازمہ اگر جاکر
بتائی گی بھی تو کیا بتائے گی۔۔
"نہیں پتر جب سے تو مالش کرتی ہے میرے ٹانگوں کو بہت آرام ہے اللّٰہ تجھے ڈھیروں خوشیاں دیں"....وہ محبت سے اسے دیکھتے بولی
"آمین".....وہ زیر لب بولی
"تو بہت پیاری ہے اور تیری آنکھوں کا رنگ.."،،،،،دادی کا زمل کو دیکھنے کا انداز ہی الگ ہوتا تھا
"میں بلکل اپنی امی کی طرح ہوں"......زمل انجانے میں دادی کی بات کاٹتے بولی،،،دادی شاید آگے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زمل ماں کے ذکر کے چکر میں غور نہیں کی
وہ دونوں ایسی ہی چھوٹی موٹی باتیں کررہے تھے،،،زمل کے آنے سے دادی بہت خوش تھی،،وہ تو ایک کمرے میں اکیلی پڑی رہتی تھی کھانا دیدیا اور بس اور محتشم صاحب تو انھیں پوچھتے ہی نہیں تھے ایک زہران تھا جب وہ شہر سے آتا تو دادی کے پاس بیٹھتا اب زمل آئی تھی تو انکی بوریت میں خاصی کمی آئی تھی
****
زمل زہران خان کے کمرے میں آگئی تھی۔۔دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا تھا،،شہد رنگ آنکھوں میں چاہت لیے وہ اس کمرے کو دیکھ رہی تھی۔۔کل اچانک آنے پر وہ دیکھ نہ سکی تھی،،،سامنے دیوار پر خوبصورت سا وال کلاک تھا جسکے ہندسے ساڑھے دس بجا رہے تھے،،زہران خان اب تک آیا نہیں تھا
بیڈ کے پیچھے والا وال روئل بلو تھا اور باقی تین آف وائٹ۔۔کمرے کے بیچ میں سیٹ جہازی سائز بیڈ اور بیڈ کے دونوں طرف ڈیسنٹ سا سائیڈ ٹیبل تھا جس پہ لیمپ رکھے تھے اور زہران کی پکچر فریم پہ لگی سائیڈ ٹیبل پہ رکھی تھی،،زمل کی نظر تصویر پہ ٹھر سی گئی دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہوئی تھی
وہ تھڑی پیس سوٹ میں ملبوس تھا،،وائٹ شرٹ بلیو کوٹ بلو ڈریس پینٹ،،براؤن شوز،،آنکھوں پہ گوگلز لگائے وہ کار کی بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا
"ہممم ہممم ادھر اُدھر بھی غور کرلے"......زہران کی ہشاش بشاش آواز پہ وہ گڑگڑاتے ہوئے پیچھے مڑی
زہران خان جب اندر آیا تو اسے محویت سے اپنی تصویر کو تکتے پایا،،ایک خوشگوار سا احساس ہوا۔۔۔
"نہیں...وہ...وہ میں تو....ہاں میں وہ وال اور آپکے کوٹ کا کلر دیکھ رہی تھی دونوں سیم ہے نہ"......وہ گڑگڑاتے ہوئے جلدی سے بہانہ گڑھتے بولی،،،اپنی اتنی بےاختیاری پہ دل میں خود کو کوسا
وہ جو اسے گڑبڑاتا ہوا دیکھ رہا تھا اسکے بہانے پہ ذرا سا ذرا مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھتا واچ وغیرہ اتارنے لگا
"کیسی ہیں"؟......وہ کوٹ اتارتا اسے خاموشی دیکھتا اسکی شرمندگی کے اثر کو زائل کرنے کیلئے ہلکے پھلکے لہجے میں دریافت کیا
"میں ٹھیک....آپ کھانا کھائیں گے"؟.....زمل کو خیال آیا تو وہ تیزی سے پوچھی
"نہیں کھا کر آیا ہوں میں".....وہ اس سے کہتا اپنے ایزی سا کپڑا لے کر واشروم میں چلے گیا
نکلا تو ماتھے پہ گیلے بال بکھرے تھے،،زمل کو اندازہ ہوا کہ وہ شاید روز ہی رات کو باہر سے آکر باتھ لیتا ہوگا،،،زمل تو بس کل رات اسلیئے لے لی کہ وہ اتنے دنوں سے گندے حلیے میں تھی اور اب اسے صاف ہونا تھا ورنہ وہ تو کبھی رات میں باتھ نہ لے۔۔
"آپ.…."،،،،،زمل الفاظ کا چناؤ کرنے کیلئے رکی
"ایزی ہو کر پچھے کیا پوچھنا ہے".....وہ لیپ ٹاپ سائیڈ ٹیبل کے دڑار سے لیتا بیڈ پہ بیٹھتا بولا
"وہ آپ اتنے لیٹ آئے".......اسکے الفاظ پہ کچھ ڈھارس بندھی
"میں ڈیلی صبح جاؤگا اور اسی ٹائم پر آؤنگا اگر آپ کو کچھ مسئلہ ہو تو آپ اس وقت پہ مجھ سے ڈسکس کرسکتی ہیں"...…..اسکی نظریں ہنوز لیپ ٹاپ پہ مرکوز تھی۔۔
زمل کو لفظ مسئلہ سے "فہد خان" یاد آیا ایک زہران خان تھا جو اسکا محرم ہوتے ہوئے بھی اس پہ صرف سرسری سا نظر ڈالتا تھا اور ایک فہد خان دل کیا اسکے بارے میں سامنے بیٹھے شخص کو بتادے لیکن پھر ارادہ ترک کردیا
"جی ٹھیک"،،،،،وہ بس اتنا ہی کہتے صوفے پہ جا لیٹی
اسکے بعد نہ زمل کچھ بولی اور نہ ہی زہران خان۔۔زمل کا دل کیا وہ اس شخص سے اور باتیں کریں لیکن خاموشی سے سونے کی کوشش کرنے لگی
*****
"تم پھر کب بھیج رہے ہو اپنے گھر والوں کو"؟..... ہر روز کی طرح وہ دونوں پھر دوپہر کو ایک گھنے درخت کے نیچے بیٹھے تھے
"ابھی کچھ وقت لگے گا"......اسکے پوچھنے پر وہ بے تاثر لہجے میں بولا
"اور کتنا وقت لگے گا کب سے تو میں انتظار کررہی ہوں"......وہ دبے دبے غصے میں بولی
"اگر ابھی میں کہونگا تو معاملہ خراب ہو جائے گا اس واقعہ کو کچھ وقت گزرنے دو پھر میں خود لے کر آؤنگا".....اب کی بار وہ اسکے ہاتھ کو نرمی سے دباتا بولا،،،،وہ ناراضگی سے رخ موڑ گئی
"یار سمجھو نہ میری بات اگر ابھی لے کر آتا ہوں تو ایک نئی پرابلم کرئیٹ ہوجائے گی"،،،،،وہ پیار سے اسے پچکارتا ہوا بولا
"اچھا صحیح لیکن جلدی".....وہ بادل ناخواستہ مان گئی
"تم پر یہ اورنج کلر بہت سوٹ کرتا ہے"......وہ اورنج کلر کی گٹھنوں تک آتی کرتی میں ملبوس تھی جس پہ بلیک کڑھائی کی تھی بلیک ٹروزار بلیک ڈوپٹہ اور چادر لیا ہوا تھا
"اب واڈروب اورنج کلر کے سوٹ سے بھرنا ہوگا".....وہ ہنستی ہوئی بولی تو وہ بھی ہنس دیا
****
دن گزر رہے تھے اور گزرتے جارہے تھے۔۔زہران خان وہی رات کو آتا اور اسکی خیریت معلوم کرتا اور چند ایک باتیں پوچھ کر وہی اپنے لیپ ٹاپ میں بزی ہوجاتا اور پھر سوجاتا۔۔زمل کو بخوبی اب اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ زہران خان ایک اچھی شخصیت کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ طبعیت کا ہے..دن بھر چپ کا تالا لگا کر رہنے کے بعد رات کو اس شخص سے باتیں کرنے کا دل چاہتا تھا لیکن اسکی ہمت نہیں ہوپاتی۔۔فہد خان کو زمل سے ملنے کا موقع نہیں مل رہا تھا لیکن کھانے کی ٹیبل پر ہوتا تو زمل اسکی گہری نظروں سے جھنجھلا جاتی۔۔
زمل حویلی کی چھت پہ کپڑے ڈالنے کیلئے آئی تو مشل بھی اسکے پیچھے دبے پاؤں چلتے ہوئے آگئی،،،وہ ایسی ہی اب موقع دیکھ کر اس سے بات کرنے آجاتی تھی۔۔
"کیسی ہیں آپ"؟.…..زمل اپنے پیچھے سے مشل کی آواز سن کر مسکراتے ہوئے مڑی
"میں ٹھیک تم کیسی ہو؟یونی نہیں گئ"
"نہیں آج کوئی امپورٹنٹ کلاس نہیں تھی".…..وہ ایک جانب رکھی چارپائی پہ بیٹھتے بولی
"بی بی خان نہیں ہیں کیا"......وہ اسکو سکون سے بیٹھتے دیکھ کر پوچھی
"نہیں وہ بابا سائیں کے ساتھ گاؤں والے سردار کی حویلی گئی ہیں"......زمل اسکی بات پر اثبات پہ سر ہلاتے واپس مڑ کر کپڑے ڈالنے لگی
"بھابھی آپ کو پتہ ہے بھائی حویلی کے لوگوں کی طرح نہیں ہیں..انکا مزاج حویلی کے مردوں کے بلکل برعکس ہے،،وہ بہت نرم دل احساس اور محبت کرنے والے شخص ہیں".......اسکے لہجے میں اپنے بھائی کیلے محبت اور احترام تھا
"ہمممم.....لیکن تم مجھے بھابھی مت کہو".....اسکی بات پہ وہ صرف ہممم ہی بولی زہران کی خوبیوں کی وہ دل سے مترادف تھی لیکن اسکے مختصر بات کرنے پہ وہ خود بخود دل ہی دل میں اس سے خفا تھی
"میں کہونگی ابھی تو اکیلے ہی میں سہی لیکن انشاء اللّٰہ جلد سب کے سامنے بھی".....وہ مسکراتے ہوئے بولی
"مجھے اس بات کا بہت دکھ ہے میں آپ کیلئے کچھ نہیں کرسکتی ،،لڑکیاں بہت بےبس ہوتی خاص طور پر حویلیوں کی،،اس حویلی سے نکلنا بھی ایک مشکل کام ہے،،کسی بھی چیز کیلئے باہر جانا ہو تو ایک لمبے پروسس سے گزرنا پڑتا ہے،،پتہ ہے میں اس رسم کو ختم کرنا چاہتی ہوں اس رسم کی اجازت تو ہمارا مذہب بھی نہیں دیتا اور یہ تو اللیگل ہے،،لیکن بابا سائیں فہد خان.....میں بھی نہ کتنی ڈرپوک ہوں".......وہ تلخی سے ہنسی
"ایسے نہ کہو تم تو میری پھر بھی کتنی مدد کرتی ہو اور تم دیکھنا ایک نہ ایک دن یہ رسم ضرور ختم ہوگا"......وہ محبت سے اسے اپنے ساتھ لگائی
"فہد خان کی بھی بات مانتی ہو"؟.....اسکی بات یاد آتے وہ سرسری سے لہجے میں پوچھی
"اسکی بات تو اب زندگی بھر ماننی ہوگی"......اسکی آنکھوں میں دکھ ہلکورے لے رہے تھے
"کیا مطلب"؟.....زمل ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
"مفسرہ کو مہران لالا اور مجھے فہد خان سے بچپن میں ہی منسوخ کردیا گیا تھا اور زہران بھائی کے ساتھ کا کوئی نہ تھا تو وہ بچے ہوئے تھے اسی لئیے شاید کہ آپ نے انکے زندگی میں آنا تھا"......دکھ سے بولتے وہ آخری میں ہلکا سا ہنسی
"کیا اتنی پیاری لڑکی کا مستقبل فہد خان جیسے شخص کے ساتھ ہونا ہے نہیں بلکل بھی نہیں میں اسکے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہونے دونگی".....وہ اسکے چہرے پہ نظریں جمائے دل ہی دل میں ارادہ کرلی،،اپنی چھوڑ کر اسے اس لڑکی کی فکر لاحق ہوگئی تھی جو صرف بیس برس کی تھی اور یونیورسٹی کے سیکینڈ ائیر میں تھی
"اچھا تم مہران خان کو لالا اور زہران خان کو بھائی بولتی ہو کیوں؟.......وہ اسکا ذہن بٹانے کو پوچھی جو فہد خان کی وجہ سے اداس ہوگئی تھی
"وہ کہتے ہیں کہ مجھے لالا نہ کہا کرو بھائی بولو،،کہتے ہیں بھائی کی جان بولنے میں زیادہ اچھا لگتا ہے".....وہ ہنستے ہوئے بتانے لگی
*****
"سنو لڑکی".....فضیلہ بیگم لاؤنج میں آکر صوفے پہ بیٹھتے بولی
"جی".…..وہ جو بیج میں رگ کے اوپر رکھے سینٹرل ٹیبل کو صاف کرہی تھی،،انکے اس طرح مخاطب کرنے پہ حیران ہوئی
"تمہاری ماں کیسی ہے ٹھیک ہے".....انکے لہجے میں کچھ عجیب سا تاثر تھا
"میری ماما کی ڈیتھ ہوگئی ہے"....وہ نظریں جھکاتے آنسوں پینے کی کوشش کرنے لگی
"اور تمہارا باپ وہ ٹھیک ہے یا کوئی مسئلہ ہے"،،،،انکا لہجہ پراسرار ہوتا جارہا تھا۔
ٹھیک ہے،،،،انکے لہجے پہ وہ ٹھٹکی،،،آج وہ خلاف معمول اس سے خود بات کرنے آئی تھی وہ بھی ایک غیر متوقع ٹاپک
"ہمممم میں سمجھیں کیا پتہ پریشان رہتا ہو"،،،،،وہ معنی خیزی سی مسکراہٹ اس پہ اچھال کے چلی گئی
جبکہ زمل شج و پنج میں پڑگئی،،،انکی پراسرار طور پر کی گئی بات،،،باپ کا خوف،،،دادی کا محبت سے دیکھنا،،،کیا ان سب کے پیچھے حویلی سے تعلق ہے
"یااللہ کیا کوئی ایسی بات ہے جو میں نہیں جانتی".....وہ بری طرح الجھ گئی تھی
******
وہ آج دو دنوں بعد حویلی آیا تھا،،زمل ان دو دنوں میں بولائ بولائ پھر رہی تھی...وہ اس سے ہر رات کو تھوڑی بہت باتیں کرنے کی عادی ہوگئی تھی،،اس سے وہ اب بلاجھجھکے بات کرلیا کرتی تھی لیکن اسکی سنجیدہ طبعیت کو دیکھ کر کم ہی کرتی تھی
"بات سنیں"….وہ آہستگی سے اسے مخاطب کرتی نیچے ہی بیٹھ گئی وہ بیڈ کے ایک طرف بیٹھا تھا،،دو دن بعد وہ آیا تھا اور اب بھی اپنے کام میں مصروف تھا
ہمممم...بغیر اسکی طرف دیکھے وہ لیپٹاپ پہ نظریں مرکوز کیے مصروف سے انداز میں بولا
آپ اتنے ریزرو نیچر کے کیوں ہیں،،آپکو پتہ ہے یہاں میں پورا دن منہ بند کرکے رہتی ہوں کم از کم آپ ہی بات کرلیا کریں،،،میری دوستیں کہتی تھی زمل اتنا کیوں بولتی ہو اگر کسی دن تجھے بات کرنے والا کوئی نہ ملا تو،،،وہ منہ بسورتے نیچے بیٹھتے بولی،،وہ اسکی خاموش طبعیت سے جھنجھلا گئی تھی جبھی ہر سوچ کو بالائے طاق رکھتے اسکے سامنے کھل کر ناراضگی کا اظہار کرنے لگی
اسکی بات پہ زہران کے لبوں پہ مسکراہٹ آگئی،،لیکن اسکے دیکھنے سے پہلے ہی تھوڑی دیر پہلے والی سنجیدگی آگئی تھی
"گرلز الرجیک ہوں"....زہران کہ تو چکا تھا لیکن کس کے سامنے کہ گیا تھا یہ اب اسے احساس ہوا
"مجھ سے مطلب"،،،وہ آنکھوں میں ناسمجھی لیے اسے دیکھی
"زیادہ بات نہیں کرتا میں،،اور آپ ادھر بیٹھے یہاں ہیں آپکی جگہ"...وہ اسے نیچے سے اٹھتا بیڈ پہ اپنے سامنے بٹھایا
"بندہ تھوڑی دیر کیلئے اپنے کام سائیڈ میں رکھ کر ٹھیک سے بات ہی کرلے"،،،وہ دل میں کڑھ کر سوچی
"تو مجھ سے کرلیا کریں نہ،،آپکو تو پتہ ہے یہاں میں پورا دن خاموش رہتی ہوں"،،،وہ روہانسی سی بولی
"میری عادت نہیں نہ ذیادہ بات کرنے کی آپ کرلیا کریں میں آپکی باتوں کا جواب دیدیا کرونگا"......وہ نرمی سے مسکراتا ہوا بولا اور پہلی بار تھا جو اسکے لہجے میں سنجیدگی کے آثار نہیں تھے،،،،پنک اور وائٹ کلر کے کپڑے میں ملبوس وہ ناراض ناراض سی اسکے دل میں اتر رہی تھی
"آپ دو دنوں سے کہاں تھے"؟....اسکے دو دن بنا بتائے غائب ہونے پہ پوچھی
"میں اپنے فرینڈ کے ساتھ مل کے کمپنی کی کنسٹرکشن کروارہا تھا اور ان دنوں میں کام کو فائنل کرنا تھا تو وہ شہر میں رکنا پڑا اچھا ایک اور بات حویلی میں کسی کو نہیں پتہ میں نے اپنی کمپنی کنسٹرکٹ کروائی یہ آپ پہلی ہیں جسے بتارہا ہوں امید کرتا ہوں آپ کسی کو نہیں بتائے گی"......وہ نرمی سے تفصیل سے بتانے لگی،،،اس لڑکی سے بات کرکے اب اسے بھی اچھا لگنا لگے تھے،،وہ جو لڑکیوں سے سو میل دور رہتا تھا،،،نکاح رشتہ ہوتا ہی اتنا خوبصورت ہے کہ ایک دوسرے کے دل میں جگہ بن جاتے ہیں
"تھینکیو تھینکیو سو مچ"...... وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی،،،اسکی بات سے اسے اپنا آپ معتبر لگنے لگا تھا
"کس لئیے"؟....وہ آئبرو اچکائے مسکراتا ہوا پوچھا
"مجھ پر بھروسہ کرنے کیلئے"....وہ مسکراتے ہوئے بولی
دونوں کے دل محبت اپنا کام کرچکی تھی اب اظہار باقی تھا دونوں طرف سے۔۔کیا اظہار ہونا تھا یا اس سے پہلے ہی الگ ہوجانا تھا
*******
جاری ہے!!
Comments
Post a Comment