مخیر حضرات سے گزارش ہے اللہ پاک نے کروڑوں لوگوں میں سے نیک کام کے لیے آپ کو چنا ہے تو آئیں سیلاب زردگان حقداروں تک راشن و دیگر ضروریات کا سامان پہچائیں ان کی بھر پور مدد کریں.
اکثر لوگ ہم پر یقین نہیں کر رہے ،یہاں تک کہ کچھ لوگ گالیاں دے رہے ہیں اور فراڈ کہہ رہے ہیں کچھ کیا کہہ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
میں ان سے اتنا کہنا چاہتا ہوں اگر آپ کو کوئی فقیر ملتا ہے اگر آپ اسے 10 روپے دے دیتے ہیں کیا اس کی آپ تصدیق کرتے ہیں۔افسوس کے علاوہ میں اور کچھ نہیں لکھ سکتا ہاں کچھ کو ڈرامہ لگتا ہے تو وہ اس ڈرامے کو انجوائے کریں شکریہ .
اچھا میں آپ کو ایک چھوٹا سا ثبوت دے رہا ہوں ۔اگر آپ پڑھے لکھے ہیں ایزی پیسہ اکاؤنٹ کو اچھی طرح جانتے ہیں تو آپ جلدی ہی سمجھ لیں گے ۔میرے اکاؤنٹ کی لمیٹ 50 ہزار ہے ۔46669 ابھی لمیٹڈ باقی ہے یعنی آپ اتنی رقم بھیج سکتے ہیں وہ بھی رات 12 بجے تک،
اس کا مطلب ہے کہ آج ہمیں ٹوٹل رقم 3331 روپے ملے ہیں۔سمجھانے کی بات یہ ہے کہ اب آپ 46 ہزار سے اوپر رقم نہیں دے سکتے اس کے نیچے دے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے لمیٹڈ اتنی ہے ۔آپ ابھی چیک کر سکتے ہیں اپنے اکاؤنٹ سے ۔
اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔۔۔اگر آپ کو اتنا سمجھ نہیں آئی تو آئیے ہم سے رابطہ کریں ہم آپ کو سیلاب زدگان کی طرف لے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ کیوں کہ میری پوسٹ لمبی ہو رہی ہے ۔سمجھ گئے ۔۔۔
یہ نہیں کہ آپ لاکھوں بھیجے آپ 10 روپے تک بھی دے سکتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ قطرہ قطرہ بھی دریا بن جاتا ہے
مجھے اس بات پر افسوس ہو رہا ہے کہ امداد ہمیں ابھی تک 8143 روپے جمع ہوئے ہیں ۔
شکریہ جن لوگوں نے یہ بھی رقم بھیجی ۔یہ چھوٹی سی بھی رقم آپ کی امانت سیلاب زدگان کو پہنچا دی جائے گی ۔آج کے مہنگائی کے دور میں یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے 😭
episodes
دادی ٹانگوں میں درد ہوتا ہے"؟..…..زمل سمجھ گئی تھی ایک ملازمہ کو اسکے ساتھ اسکی اور دادی کی نگرانی کیلئے بھیجا جاتا ہے اس لئیے وہ ہلکی پھلکی باتیں بنا ڈر کے کرلیا کرتی کہ ملازمہ اگر جاکر بتائی گی بھی تو کیا بتائے گی۔۔ "نہیں پتر جب سے تو مالش کرتی ہے میرے ٹانگوں کو بہت آرام ہے اللّٰہ تجھے ڈھیروں خوشیاں دیں"....وہ محبت سے اسے دیکھتے بولی "آمین".....وہ زیر لب بولی "تو بہت پیاری ہے اور تیری آنکھوں کا رنگ.."،،،،،دادی کا زمل کو دیکھنے کا انداز ہی الگ ہوتا تھا "میں بلکل اپنی امی کی طرح ہوں"......زمل انجانے میں دادی کی بات کاٹتے بولی،،،دادی شاید آگے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زمل ماں کے ذکر کے چکر میں غور نہیں کی وہ دونوں ایسی ہی چھوٹی موٹی باتیں کررہے تھے،،،زمل کے آنے سے دادی بہت خوش تھی،،وہ تو ایک کمرے میں اکیلی پڑی رہتی تھی کھانا دیدیا اور بس اور محتشم صاحب تو انھیں پوچھتے ہی نہیں تھے ایک زہران تھا جب وہ شہر سے آتا تو دادی کے پاس بیٹھتا اب زمل آئی تھی تو انکی بوریت میں خاصی کمی آئی تھی **** زمل زہران خان کے کمرے میں آگئی تھی۔۔دل میں ایک عجیب سا ا...
Comments
Post a Comment